ابن ادریس حلی کی کتاب السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی اور اس کے اہم حصے مستطرفات السرائر کا مختصر تعارف درج ذیل ہے
ابن ادریس حلی متوفی 598ھ نے اس کتاب میں فقہ جعفریہ کے تمام ابواب کو تفصیل سے بیان کیا ہے اس کتاب کا سب سے اہم اور منفرد حصہ اس کا آخری باب ہے جسے مستطرفات السرائر یا النوادر کہا جاتا ہے
اس حصے کی علمی اہمیت یہ ہے کہ ابن ادریس نے ان قدیم اصولوں اور بنیادی کتب سے روایات جمع کی ہیں جو ان کے دور میں نایاب ہو رہی تھیں ان کتب میں ائمہ کے جلیل القدر اصحاب جیسے ابان بن تغلب اور جمیل بن دراج کی روایات شامل ہیں اگر ابن ادریس ان روایات کو اس کتاب میں محفوظ نہ کرتے تو ان قدیم منابع کا ایک بڑا حصہ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتا
کتاب السرائر الحاوی لتحریر الفتاوی اور اس کے اہم حصے مستطرفات السرائر کے مندرجات کی تفصیل درج ذیل ہے
اس کتاب میں فقہ جعفریہ کے تمام بنیادی اور فرعی ابواب کو ترتیب وار بیان کیا گیا ہے جن میں عبادات معاملات اور احکام شامل ہیں
1 عبادات
اس میں نماز روزہ حج زکوٰۃ خمس اور جہاد کے تفصیلی احکام موجود ہیں ابن ادریس حلی نے ان ابواب میں قرآنی آیات اور متواتر احادیث سے استدلال کیا ہے
2 معاملات
کتاب کے اس حصے میں خرید و فروخت تجارت نکاح طلاق وراثت اور وقف جیسے اہم سماجی اور معاشی مسائل پر بحث کی گئی ہے
3 مستطرفات السرائر یا النوادر
یہ اس کتاب کا سب سے خاص حصہ ہے جس میں ابن ادریس نے ائمہ علیہم السلام کے ان اصحاب کی روایات جمع کی ہیں جن کی اصل کتب اب نایاب ہو چکی ہیں اس میں ابان بن تغلب جمیل بن دراج حریز بن عبداللہ اور دیگر معتبر راویوں کی وہ احادیث شامل ہیں جو فقہی احکام کی بنیاد ہیں
4 علمی تنقید اور اجتہاد
اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ابن ادریس نے محض پچھلے فقہاء کے اقوال کو نقل نہیں کیا بلکہ ان پر علمی نقد کیا ہے انہوں نے عقل اور اجماع کو بطور دلیل استعمال کرتے ہوئے بہت سے پیچیدہ مسائل کا حل پیش کیا ہے
5 قدیم منابع کا تحفظ
اس کتاب میں ان قدیم اصولوں اور کتابوں کا مواد محفوظ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ضائع ہو گئی تھیں یہی وجہ ہے کہ حدیث کے محققین کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے
Reviews
There are no reviews yet.